حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مدیرِ مؤسسۂ علمی و ثقافتی جبل الصبر حجت الاسلام والمسلمین طباطبائی اشکذری نے بین الاقوامی کانفرنس «تبلیغِ نوینِ دین» کی تمہیدی نشست «مدرسۂ مقاومتِ زینبی میں دین کی بین الاقوامی تبلیغ» تھا، میں گفتگو کے دوران دین کے ڈھانچے میں تبلیغ کی بنیادی اہمیت پر زور دیتے ہوئے اس موضوع کے قرآنی اور تاریخی مبانی کی وضاحت کی۔
انہوں نے کہا: تبلیغِ دین تمام توحیدی ادیان کے مشترک اصولوں میں سے ہے۔ تمام ادیانِ الٰہی میں انبیاء، علما اور دینی رہنما دعوت اور تبلیغ پر مامور رہے ہیں اور امتوں تک دینی معارف پہنچانا ان کی الٰہی رسالت کا لازمی حصہ رہا ہے۔
مدیرِ مؤسسۂ علمی و ثقافتی جبل الصبر نے کہا: بعض اوقات صرف پیغام پہنچانا مقصود ہوتا ہے جیسے ایک ڈاکیا جو خط کو مبدأ سے منزل تک پہنچا دیتا ہے اور اس کے قبول یا رد کی ذمہ داری اس پر نہیں ہوتی لیکن تبلیغِ دین کا مفہوم سمجھانا، تعلیم دینا اور اثر ڈالنا ہے اور یہ «تفہیم اور تبیین» سے جڑا ہوا ہے۔ اسی بنا پر مبلغ کو انسانی اور اسلامی معارف کے مجموعے میں ایک کلیدی مقام حاصل ہے۔
انہوں نے قرآنِ کریم میں تبلیغ کے مقام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: قرآن میں تبلیغِ دین کے حوالے سے دو بنیادی اصطلاحات استعمال ہوئی ہیں؛ «تبلیغ» اور «دعوت»۔ لفظ تبلیغ ۷۷ مرتبہ اور لفظ دعوت ۲۱۲ مرتبہ آیاتِ الٰہی میں آیا ہے جن میں سے ایک قابلِ توجہ حصہ مکی سورتوں میں پایا جاتا ہے اور یہ خود دینی معاشرے کی تشکیل میں تبلیغ کی بنیادی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
حجت الاسلام والمسلمین طباطبائی اشکذری نے کہا: قرآنِ کریم تبلیغِ دین کے لیے تین حاکم اصول متعارف کراتا ہے؛ پہلا حکمت اور استدلال کے ساتھ دعوت، دوسرا موعظۂ حسنہ اور مؤثر نصیحت اور تیسرا مخالفین کے ساتھ جدالِ احسن۔ ائمۂ اطہار علیہ السلام کے مناظرات بالخصوص امام رضا علیہ السلام کے مناظرات جدالِ احسن کی نمایاں مثال ہیں، ایسا جدال جس کا مقصد حق کو واضح کرنا اور مخاطب کو فکری طور پر قائل کرنا ہے نہ کہ غلط غلبہ حاصل کرنا یا جذباتی تصادم۔
انہوں نے مزید کہا: ہر دور میں تبلیغِ دین اسی زمانے کے حالات و تقاضوں کے مطابق ہونی چاہیے اور آج کے دور میں صرف روایتی طریقے کافی نہیں ہیں۔ تبلیغِ نوین سے مراد یہ ہے کہ دین کے پیغام کو درست اور مؤثر انداز میں پہنچانے کے لیے جدید وسائل، طریقوں اور صلاحیتوں سے استفادہ کیا جائے۔









آپ کا تبصرہ